tamam bimariyon ka tib e nabvi ilaj

woh waqat door nahin jab all world main tib e nabvi ilaj ka charcha ho ga bcoz  ab dunya tib e nabvi  ilaj ki haqqeqat ko samaj gai hy

tib e nabvi ilaj hi aisa treqa ilaj hy ji nature ky karreb hy .aleopathic sy dunya ab pechy ho rahee hy coz is ky sideffect boht hain jb k tib e nabvi ilaj ka koi side effect nahin tib e nabvi ilaj main aksar nuskhy kitchen sy he ban jatay hain ,tib e nabvi ilaj sy shifa ky sath sath sawab be hy.zail main tib e nabvi ilaj ka aisa nushka likha hy jo har bemari ka illaj hy

 

طب نبوی سے ہر بیماری کا علاج

موسم گرمی کا ہو یاسردی کا‘ بارش کا ہو یا طوفان کا۔۔۔ مریض ہو یا تندرست۔۔۔ پہاڑوں کا رہنے والا ہے یا میدانوں کا۔۔۔ جزیروں میں زندگی کے دن رات گزرے یا صحراؤں میں۔۔۔ بیماری ‘شفایابی‘ علاج اور صحت ہم سب کی ضرورت ہے۔

اللہ پاک جل شانہٗ نے جہاں بیماریاں بنائی ہیں وہاں ان کا علاج بھی۔ آسمانی نظام سدا انسان کا ساتھی رہا اور قیامت تک ساتھی رہے گا۔ فطری غذاؤں سےہٹنے کے بعد انسان جب مصنوعی غذاؤں پرآتا ہے تو سب سے زیادہ اثر دو چیزوں پر پڑتا ہے ایک معدہ اور جگر۔۔۔ پھر جب یہی معدہ اور جگر متاثر ہوتے ہیں پھر اس کے بعد جو بیماریاں سامنے آتی ہیں ان میں کو لیسٹرول ‘یوریا‘ یورک ایسڈ‘ جوڑوں کا درد‘ بواسیر‘ اعصابی کمزوری‘ شوگر‘ پٹھوں کی کمزوری‘ مردانہ طاقت‘ یادداشت ‘نگاہ پراثر وغیرہ وغیرہ۔

لیکن! بنیاد وہی معدہ اور جگر ہے اور اس کی بنیاد غذائیں ہیں۔ کھانا اور کھاتے چلے جانا اور پھر کھا کر بیٹھے رہنا یا پھر کھا کر دماغی سوچوں پر لگ جانا۔ ہم بھی کیسے دیوانے ہیں مزدور کی زندگی کو دیکھتے نہیں‘ محنت کش کا کھانا دیکھتے ہیں۔ بالکل ٹھیک ہے صبح تین پراٹھے‘ تین کپ چائے بڑی پیالیاں اور بہت سا بچا ہوا رات کا سالن آپ کھائیں پھر محنت کش کی زندگی گزاریں کہاں گیا کولیسٹرول‘ کہاں گیا یوریا‘ کہاں گیا بلڈپریشر‘ کہاں گئی شوگر۔۔۔؟؟؟ آپ اگر محنت کش ہیں اور دن رات محنت اور محنت بھی ایسی جس میں جسم کو تھکنا پڑتا ہے یعنی محنت سےمراد جسمانی نہ کہ دماغی محنت۔۔۔ تو پھر آپ ایسی غذائیں کھانے کا حق رکھتے ہیں اورمیں دعوے سےکہتا ہوں ایسی غذائیں آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتیں اور میں مطمئن ہوں اگر آپ ایسی غذائیں کھائیں تو صحت بہتر ہوگی اگر آپ ایسی غذائیں کھا کر بیٹھے رہیں‘ دماغی محنت کرتے رہیں تو پھر بہت بڑی بیماریوں کیلئے آپ  انتظار کریں اور ان بیماریوں کا انتظار کریں جو کبھی سنی‘ سوچی‘ پڑھی یا بولی نہیں ہوںگی۔

آج کا میرا مضمون اپنے قارئین کو غذاؤں کی احتیاط ‘بس سادہ غذا کھائیں تھوڑا کھائیں‘ کم کھائیں‘ جسم کو متحرک رکھیں۔بچہ اور

پیٹ یہ کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کو جن چیزوں کا عادی بنایا جائے وہ اسی کا عادی بن ہی جاتا ہے۔

آئیے! آج آپ کو ایک ایسے مختصر سے ٹوٹکے سے متعارف کراتے ہیں اگر آپ ایسی غذائیں کھا کر اپنے آپ کومریض بناچکے ہیں۔ جگر اور معدہ کا مریض۔۔۔ جی ہاں جب جگر اور معدہ مریض بن جاتے ہیں تو پھر سب سے پہلے جو چیز سر اٹھاتی ہے وہ شوگر‘ ہیپاٹائٹس اور بلڈپریشر ہے۔

ہیپاٹائٹس سے مراد کالا یرقان اور بعض اوقات پیلا یرقان بھی ہے آپ ایسی بیماریوں میں اگر مبتلا ہوچکے ہیں تو آپ گھبرائیں نہیں ایک مختصر سا ٹوٹکہ آج آپ کی نذر کرتا ہوں بنانا کیا بس بازار سے جاکر لے لیں پتھر کنکر صاف کرلیں کسی ڈبےمیں محفوظ رکھیں اور روزانہ طبیعت کے مطابق ایک چمچ صبح و شام‘ آدھا چمچ صبح و شام یا چوتھائی چمچ چائے والا صبح و شام پانی کے ہمراہ کھانے یا ناشتے سے ایک گھنٹے پہلے یا تین گھنٹے پہلے لے لیجئے چاہیں تو دن میں تین دفعہ بھی لے سکتے ہیں وہ دوا اور ٹوٹکہ کیا ہے صرف دو بیج ہیں ایک کاسنی کے بیج اور ایک کلونجی کے بیج۔ بس۔۔