تمباکونوشی کے نقصانات

تمباکو کے زہریلے اجزاء میں سب سے زیادہ خطرناک “نکوٹین” ہے 

چائے کی طرحتمباکونوشی کا نشہ بھی غیرمحسوس ہوتا ہے، جو آہستہ آہستہ جسم پر مہلک اثر کرتاہے۔ 

تقریبا ایک تولہ نکوٹین اگر اکٹھی استعمال کی جائے تو انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔

 سگار کے تمباکو میں 8فیصد نکوٹین ہوتی ہے جسے اگر انسانی جسم میں داخل کیا جائے تو 2 انسانوں کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ 

ایک سگار کے دھوئیں میں اٹھارہ سگریٹوں سے زیادہ نکوٹین ہوتی ہے۔ سگریٹ اس لئے زیادہ مہلک شمار ہوتا ہے کہ اس میں

کاغذ کا مضرصحت دھواں شامل ہوتا ہے۔ 

تمباکونوشی سے خون جلدی گاڑھا ہوجاتا ہے۔

 خون کے سرخ ذرات کم ہوجاتے ہیں۔ دماغ کمزور ہوجاتا ہے اور سر میں بھاری پن پیدا ہوجاتا ہے۔ سردرد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔

 منہ اور گلے میں خراش اور سوزش اور خشکی پیدا ہوجاتی ہے۔

ہونٹ، زبان, گلے اور پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ 

 بینائی کمزور، آنکھوں میں غبار، لال نقطے پیدا ہوجاتے ہیں۔ 

تمباکونوشی سے دانتوں کی سفیدی خراب ہوجاتی ہے اور پیلے ہوجاتے ہیں۔ 

تمباکونوشی سے رعشہ، بے خوابی، چڑچڑاپن اور بدمزاجی تمباکو نوشی کے ثمرات ہیں۔ 

اسکا دھواں مہلک ہوتا ہے، ہوا کی نالیوں میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے زہریلے اثرات سے پھیپھڑے خراب ہوکر تپ دق اور سل پیدا ہوجاتی ہے۔ 

 اس سے پھیپھڑوں میں ایسے بخارات جمع ہوجاتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے بلغم پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ 

تمباکونوشی والے  کے تولیدی جراثیم کمزورہوجاتے ہیں اور نتیجے میں اولاد بھی کمزور پیدا ہوتی ہے۔

اگر عورت کو تمباکونوشی کی عادت ہو تو تب بھی اس کی تولیدی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے اور انڈے کمزور پڑجاتے ہیں۔

 عورتوں میں تمباکونوشی سے رحم کی خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور سگریٹ نوش حاملہ خواتین کے بچے نسبتا کمزور اور قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں۔