OMUM SEEDS:اجوائن دیسی

مختلف نام 

(عربی) کمون ملوکی (فارسی) نانخوارہ (بنگالی) یوریاں اجوائون (سندھی) جان (کشمیری) جاونڈ (تامل) اوممم سیڈز

رنگ:-   سیاہی مائل بھورا انیسوں کے مشابہ  

ذائقہ:-    تیز مائل بہ تلخی بوتیز

مصلح:- دھنیا اور اشیائے سرد و تر   

مزاج :۔  مزاج تیسرے درجے میں گرم اور خشک    

مقدار خوراک  :- تین ماشہ تا پانچ ما شہ

افعال و استمال:-  ہاضم کا سر ریاح ،دافع تشنج اور مفتح سدد ہے بھوک بڑھاتی ہے فسا د بلغم ، ریا ح اپھار اور استسقا کے لیے مفید ھے سُدہ کھولتی ہے ۔ فالج ، رعشہ اور استر خاکے لیے فائد ہ مند ہے ۔ مدر بول وحیض ھے ۔ پتھر توڑتی ہے بعض زہروں کے لیے تریاق ہے ۔ جگر کی سختی کو مفید ھے ۔ دل کو قوت دیتئ ہے۔ احشائ مثانہ ، کبد ، معدہ اور گر دے گرم رکھتی اور قوت دیتی ہے۔ ہمراہ شھد کے اور تمام اعضائ کے درد داورم کے لیے مفید ہے۔ عرق لیموں میں اس طرح تر کرکے کہ عرق اس کے اوپر رھے سات مر تبہ تر کر کے خشک کریں تو ضعف باہ کے مایوس مریضوں کے لیے نہایت مفید اور مجرب ہے۔ مفتح سدد ہو نے کی وجہ سے پرانے بخاروں میں بکثرت مستعمل ہے۔ چنانچہ آٹھ پہری اجوائن کے نام سے اس کا نقوع آٹھ پہر میں تیار کر کے پرانے بخار کے مریضوں کوپلاتے ھین قبل اخراج کرم شکم کے لیے بھی نھایت مفید ہے۔ دافع تشنج ہونے کی وجہ سے امراض تشنجی مثلا کالی کھانسی وغیرہ میں بھی مستعمل ہے۔ مضرت افیون کو دور کرتا ہے۔ تریاق سموم اور دافع تعفن ہونے کی وجہ سے امراض وبائی میں مستعمل ھے اجوائن سے ایک جوہر نکالا جاتا ہے۔ جو ست جوائن کے نام سو مشہور ہے۔ یہ دھر (سنٹرل انڈیا) میں بنایا جاتا ہے اس کے اندر اجوائن کے تمام افعال زیادہ قوت کے ساتھ پائے جاتے ہیں ۔ اس کی مقدار خوراک ایک رتی سے تین رتی تک ھے۔

مقام پیدائش :-  مشرقی ھندوستان ، ایران اور مصر میں اس کی کا شت کی جاتی ہے۔