سبز چائےاورجلدی مسائل کا علاج

سبز چائے کو خاص طور پر ایشیا میں ایک طویل عرصے سے ایک ایسے مشروب کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اب جرمن کاسمیٹک انڈسٹری میں اسے جلد کے علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

 خون کی نالیوں کے لیے بھی بہت مفید قرار دیا جاتا ہے، تاہم اب اس کو جلد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی کریموں کا بھی ایک لازمی جزو بنتی جا رہی ہے۔ جرمنی میں جلدی بیماریوں کے ماہرین یا ڈرماٹولوجسٹس کی تنظیم BVDD  سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہر جلد کرسٹیانے بیرل کے مطابق سبز چائے اس وقت ایک ’’مقبول ہوتا ہوا مرکب‘‘ ہے۔

مگر سبز چائے یورپ میں اس قدر مقبول کیسے ہو گئی؟ اس کے جواب میں جرمنی میں کاسمیٹکس تیار کرنے والے اداروں کی ایسوسی ایشن  کی بِرگِٹ ہوبر کہتی ہیں، ’’وٹامنز، معدنیات اور دیگر عناصر کی بدولت سبز چائے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مندمل کرنے کی خاصیت بھی ہوتی ہے اور یہ جلد کے لیے بہتر ہوتی ہے۔

یہاں تک کہ اسے بعض شیمپوؤں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کا مقصد سر کی جلد کو سکون پہنچانا اور چکنے بالوں کو صاف کرنا ہوتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ یعنی عمل تکسید کو روکتا ہے اور دوبارہ جلد آنے میں بھی معاون ہوتا ہے۔ بیرل کے مطابق، ’’سبز چائے پر سائنسدانوں نے کافی تحقیق کی ہے اور یہ خطرناک کیمیائی عوامل کو بھی روکتی ہے۔‘‘

یہ خصوصیات واضح کرتی ہیں کہ سبز چائے کو چہرے پر لگائی جانے والی کریموں میں کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیرل کہتی ہیں کہ اگر سبز چائے والی کریم کو سورج میں باہر نکلنے کے بعد استعمال کیا جائے تو یہ جلد کو جوان رکھتی ہیں۔