دانت اور انکی حفاظت کا علاج

دانت قدرت کا انمول تحفہ ہیں اور جسمانی مشین کا ایک حصہ ہیں ۔ جس طرح مشین کے تمام حصوں کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح دانتوں کی حفاظت بھی ضروری ہے ۔ اکثر لوگ ان کے بارے میں لا پرواہ ہوجاتے ہیں ۔ ذراسی انگلی کٹ جائے یا پاؤں میں چھالے پڑ جائیں تو پریشان ہو جاتے ہیں اور فوراْ ہی علاج معالجے کی فکر میں لگ جاتے ہیں ۔ اس کے بر عکس دانت میں چاہے کتنی بڑی خرابی ہو رہی ہو اسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یہ طرز عمل کسی طرح بھی دانشمندی پر مبنی نہیں ۔

دانتوں کی لا پرواہی کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ جوں جوں انسان بوڑھا ہو جاتا ہے اس کے دانت خود بخود کمزور اور گرنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے ، مناسب احتیاط اور دیکھ بھال سے آپ زندگی بھر قدرتی دانتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ اپنے طور پر ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے دانتوں کی حفاظت کرے۔ ان کی صفائی کا خاص خیال رکھے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ آج بھی ایسے لوگ نظر ہیں آتے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر سے تجاوز کر چکے ہیں اور ان کے تمام دانت سلامت ہیں ۔ ان کو دانتوں کی کوئی بیماری نہیں اور وہ اس عمر میں گنڈیر یاں چوستے ہیں اور ہڈی چباتے ہیں ۔

صاف ستھرے دانت اور مضبوط مسوڑھوں کے لئے ان کا پورے اہتمام اور احتیاط کے ساتھ صاف کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں ضروری باتیں پیش نظر ہیں ۔

برش 

برش دانتوں کے لئے نہ زیادہ نرم ہو نہ زیادہ سخت ۔ کیونکہ سخت برش مسوڑھوں کے نرم ریشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ برش ایسا ہونا چاہئے جس کے سرے نوکیلے نہ ہوں اور اور اتنے نرم بھی نہ کہ دانتوں کے درمیانی حصے کی صفائی نہ کر سکیں ۔ برش کا اصل مقصد دانتوں کے درمیان پھنسی خوراک کے باریک ذروں کو نکالنا ہے ۔ برش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ برش اوپری مسوڑھوں اور دانتوں سے نیچے کے مسوڑھوں اور دانتوں تک لائیں پھر اوپر لے جائیں ۔ یہ عمل ہر دانت پر دس دس دفعہ ہونا دانتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ برش کو صاف کرنا بھی ضروری ہے ۔ برش میں منجن یا پیسٹ کی تہہ نشین ہونے اور اسے گیلا رہنے سے اس میں جراثیم بھی پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اسی لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹوتھ پیسٹ یا پاؤڈر انگلی سے دانتوں اور مسوڑھوں پر لگائیں ۔ جب یہ اچھی طرح گھل جائے تو برش کریں ۔ برش کو اچھی طرح دھو کر کھڑا کھیں تاکہ وہ ہوا لگ کر سوکھ نہ جائے تا ہم اس پہ مٹی یا گرد نہیں لگنا چاہئے ۔

مسواک 

دانتوں کی صحت کے سلسلے میں ایشیا اور افریقہ میں جو مطالعہ ہوئے ہیں اس میں مسواک کی افادیت کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ مسواک چبانے سے مسوڑھوں میں دوران خون تیز ہو کر ریشوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے ، منہ میں زیادہ لعاب پیدا ہو کر دانت تیزابی مادے سے صاف ہوجاتے ہیں ۔ عام طورپر لوگ نیم، کیکر اور جامن کی لکڑی کی مسواک کرتے ہیں جبکہ پیلوکی مسواک ان تمام مسواکوں سے بہترین ہے ۔ مسواک کو بھی برش کی طرح استعمال کرنا چاہئے اور برش ہی کی طرح اسے صاف ستھرا رکھیں ۔ بعض لوگ مسواک کا ایک ہی سرا ہفتوں چلاتے ہیں جبکہ ہر تیسرے چوتھے دن مسواک کو چبا کر نیا سرا بنانا چاہئے ۔ مسواک کا زیادہ موٹا اور سخت ہونا مناسب نہیں ۔

خلال کا طریقہ

کھانے کے بعد خلال کرنا سنت نبوی ﷺہے ۔ ہمارے یہاں پہلے عام طور پر نیم کے تنکے استعمال ہوتے تھے ۔ نیم میں شامل اجزاء ہمارے دانتوں کی صحت و صفائی کے لئے بہترین ہیں ۔ لیکن اب بنے بنائے خلال بازاروں میں ملتے ہیں ۔ اکثر خلال معیاری نہیں ہوتے اور اس کے سرے اور کنارے نوکیلے اور تیز ہونے کی وجہ سے مسوڑھے زخمی ہو جاتے ہیں ۔ خلال کے لئے پرانااور موثر طریقہ دھاگہ ہے ۔ آج کل بھی اسے خلال کا بہترین انداز سمجھا جا رہا ہے خلال کے اس طریقے کے لئے ایک صاف اور مضبوط دس انچ لمبا دھاگہ لیں اور اسے دانتوں کے درمیانی جگہ میں آرام سے داخل کریں اور پھر باہر نکال لیں ۔ اس طریقے سے دانتوں کے درمیان سے پلاک اور خوراک کے ذرے آسانی سے نکل جاتے ہیں اور دانتوں کے وہ حصے بھی صاف ہو جاتے ہیں جہاں برش کے ریشے نہیں پہنچ سکتے ۔ اس دھاگے کو استعمال کے بعد پھینک دینا چاہئے ۔ خلال سے جو ذرے دانتوں کے درمیان باہر آئیں انہیں تھوک دیں کیونکہ اگر یہ آپ کے پیٹ میں چلے گئے تو مختلف بیماریوں کا سبب بن جائیں گے ۔

دانتوں کی غیر معمولی بیماری پائیوریا

پائیوریا جسے ماسخو را بھی کہتے ہیں ، مسوڑھوں کا مرض ہے۔ جس میں مسوڑھے دھیرے دھیرے متاثر ہو کر دانتوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔ ہمارے دانتون کی جڑوں میں ایک ریشہ دار جھلی ہوتی ہے ۔ اسی جھلی کے سہارے جبڑے کی ہڈی مضبوطی سے جمی رہتی ہے ۔ یہ حفاظتی جھلی تمام دانتوں کی جڑوں کو محفوظ رکھتی ہے ۔ پائیوریا اس جھلی کو رفتہ رفتہ نقصان پہنچانے لگ جاتا ہے اور اس طرح ریشے گلنے سڑنے لگتے ہیں ۔ مسوڑھوں کے سرے سوج جاتے ہیں ۔ پائیوریا سے محفوظ رہنے کے لئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔بچوں میں برش کرنے کی عادت ڈالیں ۔ انہیں صحیح انداز میں برش کرنے کا طریقہ بتائیں ۔ خود بھی خلال کریں اور خلال کے بعد کم از کم تین دفعہ کلیاں کریں۔

وضو سے پہلے مسواک یا برش کریں ۔ عام نمک یا میٹھا سوڈا گیلے برش پر لگا کر دانٹ صاف کریں ۔ دن میں کم از کم ایک دفعہ نیم کی نرم مسواک ضرور کریں اور نیم کی تازہ پتیاں جوش دے کر نیم گرم پانی سے کلیاں کریں ۔ اچھے اور معیاری منجن یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کریں ۔ برش بھی معیاری ہو اور کم از کم چھ ماہ بعد دوسرا برش خریدیں ۔ بڑے گوشت سے خاص طور پر بچیں ۔ بوٹی کی جگہ قیمہ کھایا کریں تاکہ اس کے ریشوں سے مسوڑھوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ اگر پائیوریا ہو جائے تو کنیر کی مسواک پائیوریا کا موثر علاج ہے لیکن اس کا لعاب نگلنا نہیں چاہئے ۔ آکھ کی لکڑی کا کوئلہ پیس کر اس میں نمک ہم وزن ملا کر بطور منجن استعمال کرنے سے بھی فائدہ ہوگا ۔

دانتوں کی حفاظتی تدابیر 

۔ رات کو کھانے کے بعد اور صبح ناشتے کے بعد دانتوں کو برش یا مسواک سے صاف کریں ۔

۔ میڈیم سائز کا ہو اور ٹوتھ پیسٹ ترجیحاْ فلورائیڈ والا استعمال کیا جائے ۔

۔ صبح اور شام کے لئے جدا جدا برش ہونا چاہئے تاکہ دانتوں کی صفائی کا مقصد حاصل ہو جائے اور صبح و شام ایک ہی برش کرنے سے برش نرم ہو جاتا ہے۔

۔ ٹوتھ برش دھو کر اور خشک جگہ پر رکھیں ۔ غسل خانے یا گلاس میں نہ رکھیں اور برش کرتے ہوئے برش دانتوں میں اوپر سے نیچے لائیں 

۔ عام طور پر ٹوتھ پیسٹ بدل کر استعمال کریں ایک ہی ٹوتھ پیسٹ پر اکتفا نہ کریں ۔

۔ زیادہ نرم زیادہ سخت ٹوتھ برش استعمال نہ کریں ۔ ہاں ڈاکٹر کے مشورے پر سخت یا نرم ٹوتھ برش استعمال کر سکتے ہیں ۔

۔ کھانا کھانے کے بعد خلال کا استعمال ضرور کریں ۔

۔ ٹوتھ پیسٹ کی استطاعت نہ ہو تو نمک اور پھٹکری برابر مقدار میں ملا کر سفوف تیار کر لیں اور برش کے ساتھ ساتھ استعمال کریں ۔

۔کھانے کے اختتام پر پھل یا سبزی کا استعمال کریں اس سے دانتوں کی ورزش ہوگی اور خوراک کے ریزے نہیں پھنسیں گے ۔

۔ سویٹ ڈش کھانے سے پہلے کھایا کریں نہ کہ کھانے کے بعد ۔

۔ پان سگریٹ دانتوں لئے سخت مضر ہیں ۔

۔ اپنے دانتوں کا معائنہ کم از کم سال میں دو بار ضرور کرا لیں ۔

۔ اگر دانتوں میں ہلکا سا بھی دھبہ ہو تو فوراْ ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

۔ اگر مسوڑھوں سے خون رستا ہو یا انگلی یا پھل یا برش کے وقت خون نکلے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

۔ پائیوریا کا مرض دانتوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یہ قابل علاج مرض ہے جو کہ سر جری سے ٹھیک ہو سکتا ہے ۔

۔ برف کا زیادہ استعمال نہ کیا جائے ۔

مسوڑھوں کے لئے چند ٹوٹکے

۔ لیموں کا رس انگلی سے مسوڑھوں پر ملئے ۔

۔سونٹھ، نمک ، کالی مرچ ، گیروا اور تمباکو ہم وزن پیس کر منجن بنائیے ۔

۔ امرود کے پتے پانی میں جوش دے کر غرارے کریں ۔

۔ ادرک کا ٹکڑا نمک لگا کر دانت میں دبائیں اس سے بھی درد میں آرام ملتا ہے ۔

۔ پھٹکری اور کالی مرچ پیس کر دانتوں میں ملنے سے درد میں آرام آتا ہے ۔

۔ آم یا پالک کے تازے پتے چبا کر مسوڑھوں پر ملئے ۔

۔ کیکر کی مسواک کیجئے ۔

۔ کینو، سنگترے کا جوس روزانہ پیجئے ۔

۔ سرسوں کے تیل میں نمک ملا کر روزانہ مسوڑھوں پر ملئے ۔

دانتوں کے مختلف امراض کا گھریلو علاج

پائیوریا دانتوں سے خون نکلنا

نیم کے خشک پتے 60گرام ، کالی مرچ 12گرام، نمک 24 گرام تینوں کا باریک سفوف بنا لیں ۔ روزانہ صبح، شام، رات کو ملیں اس کے استعمال سے دانتوں سے خون نکلنا بند ہو جاتا ہے مواد پیدا نہیں ہوگا اس سے مسوڑھوں کے زخم خشک ہوجاتے ہیں اور گندہ دہنی دور ہوجاتی ہے ۔

دانتوں کو کیڑا لگنا

اندرائن کے پختہ پھل لے کر خشک کر لیں ۔ بوقت ضرورت اس کو دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر دھونی لیں انشاء اللہ دانت کے کیڑے سے نجات مل جائے گی ۔

داڑھ کا درد

اگر دانت بوسیدہ ہو گیا ہو اور اس میں گڑھا پڑ گیا ہو تو روئی کی پھریری کو برگد کے دودھ میں تر کر کے سوراخ میں رکھ دیں ، درد بند ہو جائے گا ۔

دانتوں کا ہلنا

 پوست 12 گرام، مرچ سیاح 12 گرام، باریک پیس کر بطور منجن استعمال کریں دانتوں کا ہلنا ختم ہو جاتا ہے ، میل اور غلاظت دور کر کے دانتوں کو سفید بناتا ہے ۔ پیپل کی جر کی چھال سایہ میں خشک کر کے نہایت باریک پیس کر رکھ لیں صبح کے وقت بطور منجن استعمال کریں ۔ دانتوں کا ہلنا، درد، میل وغیرہ دور کر کے دانتوں کو سفید کرتا ہے اور دانت اپنی جگہ جم جاتے ہیں ۔دانت میں درد: تخم سرس 12گرام ، مرچ سیاہ 6 گرام دونوں کو باریک پیس کر رکھ لیں ۔ دکھتے وقت دانت اور داڑھ پر ملیں فوراْ درد بند ہو جائے گا منجن ملنے کے بعد کم از کم آدھا گھنٹہ تک کلی نہ کریں ۔ نمبولی نیم 12گرام ، نمک 12گرام پھٹکریاں 12 گرام خوب باریک پیس کر ڈبی میں بند کر کے رکھیں دانتوں کے درد میں خاص طور پر مفید ہے کیڑے کو ختم کرتا ہے بادی کے درد کو دور کرتا ہے اور دانتوں کو موتیوں جیسا بناتا ہے ۔

دانتوں کا ریزہ ریزہ ہو کر ٹوٹنا

پھٹکری کو باریک پیس کر شہد میں ملا لیں اور روزانہ صبح دانتوں پر ملیں ۔

مسوڑھوں کا پھولنا اور خون آنا

سونف خشک 48 گرام ، نمک لاہوری 24گرام باریک پیس کر کپڑے میں چھان کر رکھ لیں بوقت ضرورت دانتوں پر ملیں ۔ انار کے چھلکے خشک حسب ضرورت لے کر پانی میں دس منٹ تک پکائیں اور اس کے دن میں 4 مرتبہ غرارے کریں مسوڑھوں میں پیپ کا بھر جانا ، مسوڑھوں سے خون نکلنا، دانتوں میں درد، دانتوں کے ہلنے میں مفید اور مجرب ہے ۔

دانتوں میں میل منہ کی بد بو

بادام کا چھلکا کا کوئلہ 100 گرام ، سیندھا نمک50 گرام ، مرچ سیاہ 50 گرام تینوں کو خوب باریک پیس کر اچھی طرح کپڑے میں چھان لیں صبح شام ذرا سا منجن دانتوں پر ملیں ۔ مسوڑھے پھولنا، دانتوں سے پیپ آنا ، دانتوں کے دیگر امراض کے لئے وٹامن ’’ سی ‘‘ کا استعمال مفید ہے ۔

دانتوں کی بے حسی

اگر ترشی زیادہ استعمال کرنے سے دانت بے حس ہو جائیں تو اس مرض کو دور کرنے کے لئے لیموں کے بیج چبائیں بے حسی دودر ہو جائے گی ۔

دانتوں میں سردی کی وجہ سے درد

لہسن کی کلی(پوتھی )کو گرم کر کے دانتوں کے درمیان رکھ لیں دانتوں کا درد فوراْ دور ہو جاتا ہے ۔