Angoor ky faiday انگور کے فائدے

    مختلف نام:۔ 

 (عربی)  عنب (گجراتی) دہراکھ (بنگلہ) دراکھیا (بنگالی) داکھ (انگریزی) گریپ

پہچان :۔    مشہور میوہ ہے چھوٹے انگور کو جسمیں دانہ نہیں ہوتا انگور یا بدانہ کہتے ہیں۔ یہی جب خشک ہو جاتا ہے تو اس کوکِشمِش کہتے ہیں۔

رنگ :۔   زرد اور سیاہ دو قسم

ذائقہ :۔   شیریں چاشنی دار خام ترش

مقدر خوراک :-   بقدر ہضم

مزاج :-  پختہ گرم تردرجہ اول۔ خام سرد و خشک درجہ اول

مصلح  :-   تخم کرفس ، بادیان سکنجبین

اللہ تعالی نے جہاں انسان کیلئے مختلف اقسام کے اجناس، سبزیاں، ترکاریاں اور دیگر مختلف النوع خوردنی نعمتیں پیدا کی ہیں وہاں مختلف قسم کے موسمی پھل بھی پیدا فرمائے ہیں جو نہ صرف ذائقہ و لذت کے اعتبار سے بہترین کیفیات و تاثرات سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ قدرت نے ان پھلوں میں حیاتیاتی جو ہر اورامراض سے شفابخشی کے کمالات بھی سمودئیے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ طبی نقطہ نظر سے اکثر و بیشتر پھلوں میں تقویت بدن کے ایسے ایسے حیران کن جو ہر پوشیدہ ہیں کہ ان کے سامنے بیشتر دوائیں بھی محض رسمی اور عمومی ہو کر رہ جاتی ہیں ایسی ہی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہے اسے صحت و توانائی فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے قدرت کے اس کیپسول میں تین بنیادی خصوصیات ایسی ہیں کہ سوائے انار کے دوسرے پھلوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

Angoor ky faiday انگور کے فائدے

 زرد ہضم اور کثیر الغذا ہے۔ خون صالح بکثرت پیدا کرتا ہے بدن کو فربہ کرتا ہے مصفیٰ  خون بھی ہے سدادی اور احتراتی مواد کودفع کرتا ہے پختہ انگورملین ہوتا ہے ۔ اور امراض اسہال میں مفید ہے۔ دراکشا آسواور مائ اللحم انگوری اس کے مشہور مرکبات ہیں۔ کیمیائی تجزیہ سے اس میں کاربوہائیڈریٹس ۷ ئ سولہ فی صد پروٹین ۸ فی صد کے علاوہ وٹامن اے ۸۰ انٹرنیشنل یونٹ وٹامن سی چار ملی گرام فی سو گرام کیلسیم ۱۹ ملی گرام اور آئرن ۳ئ ملی گرام فئ سو گراموں میں پائے گئے ہیں۔

Angoor ky faiday انگور کے فائدے اور غذائیت

غذائیت اور توانائی کے خزانوں سے بھر پور یہ ایک کثیر الغذا پھل ہے ۔ انگور کے پختہ پھل کا استعمال اچھے سے اچھے گوشت و اعلیٰ ترین پروٹینز اور وٹامنز والی غذاؤں سے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے خوش قسمتی سے پاکستان میں کوئٹہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے اور بطور غذا مستعمل ہے۔

 انگوراور نظام انہضام

انگور کی دوسری بڑی خوبی اس کا زو دہضم اور لطیف ہوناہے اس کے استعمال سے نہ توطبیعت بوجھل ہوتی ہے اور نہ ہی معدے میں کسی قسم کی گرانی پیدا ہوتی ہے بلکہ دوسری کھائی ہوئی غذا کو بھی ہضم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

انگور کے فائدے اور تازہ خون

انگورجسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے تمام معالجین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی تندرستی کا دارو مدار خون صالح کی پیداوار سے ہے اگر جگر خون پیدا کرنا بند کر دے تو انسانی صحت جواب دے جاتی ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے رنگ پیلا پڑ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن افراد میں خون کی کمی ہوتی ہے وہ اکثر لاغر اور کمزور ہوتے ہیں نئے خون کی پیداوار کے بغیر جسم سوکھنا شروع ہو جاتا ہے قدرت نے انگور کو یہ خوبی بخشی ہے کہ اس کے استعمال سے صاف خون پیدا ہوتا ہے۔

اقسام

انگور کی کئی اقسام ہیں جو رنگ اور حجم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔رنگت کے اعتبار سے سفید‘ سرخ اور سیاہ انگور کی تین اقسام پائی جاتی ہیں ان اقسام میں سفید قسم سب سے زیادہ مقبول ہے اور فائدہ مند ہے ۔جبکہ حجم کے اعتبار سے بھی بڑا انگور‘گول جسے بادانہ یا گولا انگور بھی کہا جاتا ہے ‘لمبوترا یا بیضوی جسے سندرخانی انگور بھی کہتے ہیں‘تین اقسام ہیں۔کچاانگور استعمال نہیں کرناچاہئے کیونکہ خام اور کچے انگور میں وہ غذائیت شیرینی اور قوت نہیں ہوتی جو پکے ہوئے انگور میں ہوتی ہے پکا ہوا شیریں انگور قبض کشا ہوتا ہے زیادہ کھانے سے اسہال لاتا ہے اس کے خشک پھل کو کشمش کہتے ہیں مویز منقی بھی ایک قسم کا خشک انگور ہے کم و بیش جو خواص تازہ انگور میں پائے جاتے ہیں وہی کشمش اور مویز منقی میں پائے جاتے ہیں اگر تازہ دستیاب نہ ہوں تو کشمش استعمال کی جا سکتی ہے جو بہت حد تک انگور کا نعم البدل ہے۔

 Angoor ky faiday  انگور کے فائدے عام طبی نسخہ جات

افادہ عام کیلئے ان کے نسخہ جات نذر قارئین ہیں۔

مقوی و مفرح قلب شربت انگور

ہوالشافی

 انگور کے پتے 120گرام‘کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج ہر ایک چالیس گرام‘ پانی تین کلو گرام‘چینی دو کلو گرام۔

ترکیب

کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج اور انگور کے پتوں کو پانی میں ڈال کر بھگو دیا جائے ۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد آگ پر رکھ کر جوش دیں‘جب پانی آدھا رہ جائے تواتارلیں اورچھان کراس میں دو کلو گرام چینی شامل کرکے دوبارہ آگ پر چڑھائیں ہلکا جوش آنے پر قوام تیار ہوجائے تو اتارلیں‘شر بت تیار ہے۔ یہ شربت گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے میں انتہائی موثر ہے۔علاوہ ازیں پیشاب کی جلن اور سوزش میں بھی مفید ہے۔

مقام پیدائش :-  علاقہ سرحد، بلوچستان ، کشمیر ، قندھار ، افغانستان ۔