کے فائدے salajeet سلاجیت

   مختلف نام 

(بنگلہ) شلاجتو(سندھی) کمارو(عربی) حجر الموسٰی (انگریزی) ایسفالٹ

پہچان 

ایک قسم کی سیاہ رطوبت ہے جو پہاڑوں کی سطح سے ماہ مئی اور جون کی سخت گرمی میں تراوش پاکر منجمد ہو جاتی

ہے کلکتہ ٹراپیکل سکول نے سلاجیت کا کیمیائی تجزیہ کیا تھا جس سے ثابت ہوا ہے کہ اس دوائی کی تاثیر اس کے مؤثر اجزا

بزؤنگ ایسڈ اور بنزوئیس پر مخصر ہوتی لالچی دکاندار سلاجیت کی جگہ سٹرا ہوا کر گڑ بھی دے دیتے ہیں۔

رنگ:-  سیاہ

ذائقہ :-  پھیکا قدرے تلخ

مزاج :-  گرم ۲ خشک ۲

مقدار خوراک :-  چار رتی

افعال و استمال 

مرض جریان کی جملہ اقسام کو نافع ہے گردہ اور مثانہ کو تقویت دیتا ہے اسلیے سلسل البول میں تنہایا دیگر ادویہ

کے ساھ بکثرت استعمال کرتے ہیں ذیابطس میں کشتہ ابرک کے ہمراہ کھلانا مفید ثابت ہوا ہے سلاجیت میں ایک مومی مادہ پایا جاتا

ہے جسے تیز آنچ پر رکھنے سے نقصان پہنچتا ہے یہی وجہ ہے کہ سورج تاپی سلاجیت کو اگنی تاپی سلاجیت پر ترجیح وی جاتی

ہے جب غیر مصفی سلاجیت کو شدھ یعنی صاف کرنا ہوتو اسے قریبا چار گنا شیر گرم پانی یا دودھ میں گھول کر کپڑ چھان کرکے

آہنی ظرف میں ڈال دیتے ہیں اس سیال کو دھوپ میں رکھ دیتے ہیں جب اس کے اوپر کالی کالی بالائی سی آجاتی ہے اسے اتار لیتے

ہیں بس یہی سورج تاپی یعنی آفتابی شدھ سلاجیت ہے جس کو ست سلاجیت بھی کہتے ہیں ایک دفعہ سیال پ رسے بالائی اتار لینے

کے بعد پھر بھی بالائی آتی ہے اور اسی طرح اتار لی جاتی ہے جب بالائی اوپر آنی بند ہو جائے تو درد پھینک دی جاتی ہے۔

مقام پیدائش 

کوہ ہمالیہ کا نچلا حصہ ہر دوار شملہ اور نیپال اس کی کثیر مقدار کھٹمنڈو سے آکر ہندوپاکستان میں بکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں پایا جانے والا ایک سیال مادہ ہے جسے پہاڑوں سے نکالا جاتا ہے طب یونانی میں اس سیال مادہ کے کئی طبی

فوائد بیان کئے ہیں ۔جن میں ہڈیوں کی کمزوری ، جسمانی کمزوری ۔اور نا مردانگی وغیرہ۔سلاجیت شمالی پاکستان بالخصوص نگر،

چترال اور کالاش جسے  کافرستان بھی کہا جاتا تھا کی پہاڑوں سے نکلنے والا ایک مادہ ہے۔ اسکا رنگ سیاہی مائل چاکلیٹ کی طرح

ہوتا ہے۔ سلاجیت کو چترالی زبان میں زومو آشرو یعنی پہاڑ کا آنسو کہا جاتا ہےچترالی زبان میں آشرو آنسو کو کہا جاتا ہے لفظ

آشرو پنجابی زبان کے لفظ آتھرو سے بنا ہے۔ سلاجیت کے معنی پتھر کی جان ہے یہ ایک سیاہ رنگ کا مادہ ہے جس میں‌سے

گائے کے پیشاب جیسی بو آتی ہے بعض پہاڈ میں گرمی کی شدت کے باعث دراڑوں کے اندر سے ایک قسم کی گوند کی طرح کا مادہ

جم جاتا ہے ۔۔ یہ مادہ پہاڈ کی درزوں  میں از خود بنتا ہے  یہ ایک ٹھوس مادہ ہے جس میں نامیاتی اجزاء ۔ نباتی ریشے اور ارضی اجزاء

پائے جاتے ہیں‌ سلاجیت ایسے پہاڑوں‌ سے نکلتی جن میں‌سونے ۔چاندی ۔تانبے۔ سیسہ ذنگ اور لوہے کی کانیں‌ہوتی ہیں‌ اس لئیے اسکا رنگ

مختلف ہوتا ہے

 کی شناخت کا طریقہ salajeet سلاجیت

شناخت اس کے اصل اور نقل ہونے کی شناخت کا طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ سلاجیت کو پانی میں بھگودیں اور انگلی سے رگڑ کر

اٹھائیں‌اگر تار جیسے ریشے نکلیں تو اصلی ہے اگرسلاجیت پانی میں حل ہونا شروع ہو جائے تو نقلی ہے

 کی صفائی کا طریقہ salajeet سلاجیت

سلاجیت کو صاف کرنے کے لئیے اس کو گرم  پانی میں آدھے دن تک بھگو دیتے ہیں‌اس کے بعد باریک  ململ کے کپڑے سے فلٹر کریں‌ فلٹر

کیےہوئے پانی کو دھوپ میں رکھ  دیں اس کے اوپر بالائی آئے گی اس کو اتار لیں اور جب تک بالائی آتی رہے اتارتے رہیں‌ یہی صاف 

سلاجیت  ہے

 کے فائدے salajeet سلاجیت

سلاجیت ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے اور جسم کو گرمائش دینے کیلیۓ استعمال ہوتی ہے۔ عموما یہ مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے

دوا کے طور پر استعمال ہوتا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہر مرض کے لئیے مفید ہے اعصابی امراض میں بکثرت اسکا استعمال

ہوتا ہے اعصاب کو طاقت دیتی ہے مردانہ امراض کے علاوہ عورتوں کے امراض پوشیدہ میں‌بھی مفید ہے بعض دوائیں زوالخاصہ ہوتی ہیں

ان میں سلاجیت بھی شامل ہے زوالخاصہ اس سے مراد ہے کہ بیک وقت دو متضاد امراض میں فائدہ دیتی ہیں اگرچہ سلاجیت پیشاب آور ہے

مگر اس کو سلسل البول بار بار پیشاب آنا میں استعمال کیا جائےتو پیشاب کی ذیادتی کو روک کر مثانہ کا قوی کرتی ہے سردیوں

میں اس کی معمولی سی مقدار کھانے سے سردی کے احساس کو ختم کرتی ہے

مردانہ کمزوری کے بے شمار  نسخوں میں اس کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔