کمر کس عورتوں اور مردوں کے مخصوص امراض کی دوا

کمَرکس

مختلف نام:- (اردو)چینا گوندڈھاک کا گوند (عربی) صمخ پلاس (ہندی) کمرکس (سنسکرت) پلاش

زیریاش BENGAL KI NO (فارسی) صمغ پلاس (انگریزی) بنگاکائٹو

 پہچان :۔

درخت پلاس کے تنے میں شگاف دینے جو رس نکل کر جم جاتا ہے اسے جمع کرلیتے ہیں اس

میں کسی قسم کی بو نہیں ہوتی ہندوؤں کو زمانہ قدیم سے اس دوا کا علم ہے اور ان کے نزدیک یہ ایک

مقدس درخت ہے اس کے لال پھول کا دیوی کی قربانیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اس درخت کے بیجوں کو

پلاس پاپڑا اور پھولوں کو گل ئیسو کہتے ہیں جن کا بیان الگ درج ہے اس میں گیلگ ایسڈ اور ٹینک ایسڈ

بکثرت ہوتا ہے۔

رنگ :۔

سرخی سیاہی مائل

ذائقہ :۔

نہایت کسیلا قابض

مزاج :۔

گرم وخشک

افعال و استمال 

مجفف قابض اور ممسک ہے رقت و سرعت جریان و سیلان کے لیے دوسرے دواؤں کے

 ہمراہ گھی نیں بھون کر اس کی پنجیری بنا کر زچہ عورتوں کو کھلاتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے اس کا نام

 کمرکس مشہور ہے ڈھاک کے پتے ، محلل اورام ، مدر بول دافع بلغم ہیں پھوڑے پھنسیوں کے لیے مفید

 ہے کمرکس قابض اور مجفف ہونے کی وجہ سے سیلان الرحم میں شربا و حمولا بہت مستعمل ہے۔

مقام پیدائش :۔ دیکھو ڈھاک کا بیان ۔