BANYAN TREE-Bargad-bohar  -بوہڑ -برگد

مختلف نام : (اردو) بڑ ۰فارسی) برگد (بنگالی) بٹ (ہندی) بڑھ (عربی) ذات الذوانب (سنسکرت) وٹ ورکش  (انگریزی) بینن ٹری

  بوہڑ -برگد کی پہچان

مشہور عام درخت ہے۔ اس درخت کی عمر ایک ہزار سال تک بتائی جاتی ہے۔ اس کی شاخوں سے باریک ریشے نکل کر

زمین میں گڑ جاتے ہیں۔ ان ریشوں کو ریش برگد (بڑداڑھی) کہتے ہیں۔ زیادہ اس کا دودھ اور اس کی نرم کو نپلیں دوا مستعمل ہیں۔

شناخت ، شیر ، برگد جسم پر لگ جائے تو کالا نشان ڈال دیتا ہے۔ چند بوندیں ہاتھ پر ڈال کر ملنے سے کالی بتیاں بن جاتی ہین نیز

برگد ہوا لگنے سے ربڑ کی طرح جم جاتا ہے۔

 بوہڑ -برگد کا رنگ

پھل سرُخ پتے داڑھی سرخ

   بوہڑ -برگد کا ذائقہ

پھیکا پھل قدرے شیریں

 بوہڑ -برگد کا مزاج 

 سرد و خشک بدرجہ دوم

   -بوہڑ -برگد کی مقدار خوراک 

کونپل ۳ سے ۵ ماشہ اور دودھ ۲۔۳ قطرہ

 بوہڑ -برگد کے افعال و استمال 

 قابض و مجفف ہے۔ اس کا تازہ دودھ میں روئی تر کرکے کچرالی اوورم کنج ران کو تحلیل کرتا ہے۔ یا زیادتی مواد

کی صورت میں ورم کو پھوڑ ڈالتا ہے۔ اس کے پتوں کو جلا کر زخموں پر چھڑکتے ہیں۔ جب پائوں میں بوائی پھٹی ہوئی تو اس میں

بڑھ کر دودھ بھردینے سے جلد ہی اچھی ہو جاتی ہے۔ شیر برگد کو رقت مسی سرعت انزال اور جریان واحتلام میں مناسب تراکیب

سے کھلاتے ہیں۔ بعض اطبائ ، نرم ونازک کونپلوں اور ریش برگد کا سفوف بناکر بھی انہیں امراض میں دیتے ہیں۔ نیز ریش ، برگد

کا سفوف ہموزن شکر ملاکر بقدر ایک تولہ دودھ پائو سیر کےہمراہ مرد وعورت کو کھلانا معین حمل ہے۔ پستانوں کو سخت کرنے

کےلیے ریش برگد کے باریک ریشوں کا ضماد کرتے ہیں۔

مقام پیدائش :-

ہندوپاکستان کے میدانی علاقوں میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔